قسط نمبر 1
حسین واقعہ
سلام دوستو. میں آج آپکو اپنی زندگی کا ایک حسین واقعہ بتانے جا رہا ہوں میرا نام یاسر ہے میں کراچی کہ علاقے شاہ فیصل کالونی میں رہتا ہوں یہ میری زندگی کا پہلا تجربہ بھی تھا اس واقعے نے مجھے بہت کچھ سکھایا. یہ سٹوری تب کی ہے جب میری عمر 23 سال تھی، آج سے تقریباً 4 سال پہلے کی بات ہے میری فیملی کے حالات شروع سے اچھے نہیں تھے میرے والد ایک پرائیویٹ کمپنی میں نوکری کرتے تھے میرے گھر میں میری والدہ والد اور ایک مجھ سے چھوٹا بھائی ہے جو اس وقت آٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا میں نے میٹرک کے بعد آگے پڑھائی نہیں کی اور گھر کے حالات اچھے نہیں تھے تو میں نے اپنے گھر کے پاس ہی ایک موبائل فون کی دوکان میں کام کرنا شروع کردیا تھا ہم جس گھر میں رہتے تھے وہ کرائے کا مکان تھا جس میں ہمیں رہتے ہوئے 7سال ہوگئے تھے ہمارے مالک مکان اوپر کی منزل پر رہتے تھے اور ہم گراؤنڈ فلور پر. مالک مکان کی فیملی میں ایک انکل آنٹی اور ان کی تین بیٹیاں تھی. جسمیں سے بڑی بیٹی کی شادی کے 4 سال بعد طلاق ہوگئی تھے اور وہ اپنے 2 سال کے بیٹے کہ ساتھ اپنے والدین کہ گھر ہی رہتی تھی انکا نام صوبیہ ہے انکی عمر 28 سال تھی وہ کافی خوبصورت اور سیکسی عورت ہے انکی اپنے شوہر سے معاملات کچھ اچھے نا تھے تو بات طلاق تک آگئی اور وہ اپنے گھر آگئی. دوسری بہن جسکا نام عظمیٰ ہے ان کی بھی شادی ہوگئی تھی اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ دبئی میں رہتی تھی ہر سال بس ملنے آیا کرتی تھی بچوں اور شوہر کے ساتھ اور تیسری بہن اسکا نام حمیرا ہے وہ کالج میں پڑھتی تھی تینوں بہنیں بلا کی خوبصورت ہیں صوبیہ باجی جو سب سے بڑی ہیں انہیں سب گڑیا کہا کرتے تھے میں بھی گڑیا باجی ہی کہتا تھا ان کا کوئی بھائی نہیں تھا اور ان کے ابو جاوید انکل پی آی اے میں اچھے عہدے پر ہیں اور ان کی امی کافی اچھی عورت ہیں میری فیملی کا کافی خیال کرتے تھے انکل آنٹی، اکثر مکان کے کرائے میں دیر ہوجاتی تھی مگر وہ لوگ کبھی غصہ نہ. ہوتے اور کہا کرتے تھے آرام سے دے دینا کوئی جلدی نہیں جاوید انکل کے پاس پیسے کی کمی نہیں تھی انہیں اتنی پرواہ نہیں ہوتی تھی ان کے اچھے رویہ کی وجہ سے ہم بھی ان کا ہر طرح سے خیال کرتے تھے ان. کے گھر کے اکثر کام میں یا میرا چھوٹا بھائی مظہر کرتے تھے جیسے بازار سے سودا سلف لا دینا اور بھی چھوٹے موٹے کام وغیرہ.
قسط نمبر 2
حسین واقعہ
میرا ان کے گھر آنا جانا بھی گھر جیسا ہی تھا جاوید انکل اکثر گھر سے باہر ہی رہتے تھے انکی نوکری ہی ایسی تھی کی 2 2 دن وہ گھر نہیں آتے تھے چلیں آب آتے ہیں اصل کہانی کی طرف. یہ کہانی میری اور گڑیا باجی کے سیکس کی ہے جو کہ میں نے کبھی سوچا ہی نا تھا کے ہمارے بیچ یہ ہو جائے گا گڑیا باجی شادی سے پہلے بھی بہت سیکسی تھیں مگر شادی کے بعد اور بچہ ہونے کے بعد تو حد سے زیادہ ہی سیکسی ہو گئی تھیں مگر میں نے کبھی انکو اس نظر سے دیکھا نہیں تھا عمر میں بڑی تھیں میں عزت بہت کرتا تھا انکی. میں سیکس کے معاملے میں کچھ زیادہ ہی خطرناک تھا مگر کسی کو چودا نہیں تھا بس پورن فلمیں دیکھ کر اکثر مٹھ مارا کرتا تھا. مگر وہ بھی بہت کم ہی مگر دل بہت کرتا تھا کہ کسی کی چوت کہ مزے لوں مگر ڈرتا بھی بہت تھا مجھے سیکسی فلموں میں کچھ چیزیں بے انتہا پاگل کرتی تھیں جسمیں سب سے زیادہ چوت کو چوسنے والے سین سے میرا لنڈ بے قابو ہوجاتا میں ہمیشہ سوچتا کے لڑکی کو ایسا کیسا مزا آتا ہے چوت کو چوسنے سے کہ وہ بری طرح مچلنے لگتی ہے میں یہ کام ضرور کرنا چاہتا تھا اور سوچا ہوا تھا کہ جب بھی کبھی موقع ملا یا اپنی شادی ہوگی تو میں چوت تو ضرور چوسونگا. مگر میری یہ خواہش جلدی ہی پوری ہوئی تھی. اور یہ خواہش پوری کی تھی گڑیا باجی نے. خیر ہوا یوں کہ گڑیا باجی کی پاس اس وقت ایک سمارٹ فون تھا جو تھوڑا پرانا ہو چکا تھا اکثر ہینگ ہوجاتا تھا ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا کہ میرا فون بہت تنگ کرنے لگا ہے واٹس اپ بہت ہینگ ہوتا ہے اسکو تم. پلیز دیکھ لو زرا تو میں نے انہیں بتایا کی اسکی میموری فل ہوجانے سے ایسا ہوتا ہے اپ آیک بار فورمیٹ کرواکے دیکھ لیں تو انہوں نے کہا کہ اس فون میں کافی ڈیٹا ہے وہ سب ڈیلیٹ ہو جیگا میں نے کہا جی ہاں ڈیٹا ڈلیٹ ہوگا تب انہوں نے کہا کے وہ کچھ پرسنل ڈیٹا کو کسی میموری کارڈ میں کوپی کرکے مجھے فون دے دینگی تب میں فورمیٹ کردوں میں نے کہا ٹھیک ہے جب آپ یہ کام کرلیں تب مجھے دے دیں. دوسرے دن انہوں نے مجھے بلایا اور اپنا فون دیا اور کہا کے میں نے ڈیٹا کوپی کرلیا ہے تم اس فون کو دوکان لے جاؤ اور ریفریش کرکے مجھے واپس دے دینا چنانچہ میں نے فون لیا اور اپنی دوکان آگیا کچھ دیر بعد دوسرے کاموں سے فارغ ہوکے میں نے فون آن کیا جاری ہے

0 Comments